جیسا کہ آپ کے علم میں ہے ایف ۔بی۔آر نے ریٹرن فائلنگ کی تاریخ میں دو دفعہ اضافہ کیا ہے اور لا کے مطابق ہر سال
فرسٹ جولائی میں نیا سال شروع ہو جاتا ہے اور اس کی ڈیڈ لائن 30 ستمبر ہے۔ اس نے اپنی ریٹرن INDIVIDUAL کی
فائل کرنی ہوتی ہے پچھلے سال یہ تاریخ بھی 31 اکتوبر 2023 تھی جو کہ دو دفعہ EXTENDہوئی تھی اس دفعہ بھی 31 اکتوبر
2024لاسٹ تاریخ ہے ۔
لیکن اس کو تاریخ کو ایکسٹینڈ کیا گیا اور تاریخ 14 اکتوبر 2024 کی گئی جس کے بعد مزید ایک دفعہ جو تاریخ ہے اس کو اس ٹائم
اس ٹائم کا اکسٹینڈ کیا گیا ہے لیکن اس دفعہ نہیں لگتا کہ مزید ایکسٹینڈ ہوگی اور تقریبا 90 پرسنٹ جو ہے سسٹم بھی ٹھیک کر رہا
ہوں کام کر رہا ہے اورلگتا ہے کہ تاریخ مزید توسیع نہیں ہو گی۔
لیکن اس کو تاریخ کو ایکسٹینڈ کیا گیا اور تاریخ 14 اکتوبر 2024 کی گئی جس کے بعد مزید ایک دفعہ جو تاریخ ہے اس کو اس ٹائم
اس ٹائم کا اکسٹینڈ کیا گیا ہے لیکن اس دفعہ نہیں لگتا کہ مزید ایکسٹینڈ ہوگی اور تقریبا 90 پرسنٹ جو ہے سسٹم بھی ٹھیک کر رہا
ہوں کام کر رہا ہے
اچھا کام جو اس دفعہ کیا ہے وہ ساتھ کے ساتھ اس کو ایکٹیویٹ کرتے جا رہے ہیں کہ اب آپ کو 2023کی ریٹرن فائل کرنے کی
کوئی ضرورت نہیں
بلکہ اس سے پہلے ہی شروع کر دیا سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنا شروع ہو گیا ہے
دیکھیں یہ اگر اپ کو چار ماہ مل گئے ہیں اور چار ماہ میں بھی ریٹرن فائل نہ کر سکے تو پھر ریٹرن فائل کرنا بہت مشکل ہے اب
دیکھیں ریٹرن فائل کرنے کے لیے کیا چاہیے ہوتا ہے سیلری پرسن ہے ان کی سیلری سلپ بلکہ اب اس سال ہم یہ بھی اچھا
کام کیا ہے کہ اس کو لنک کر دیا ہے گورنمنٹ انسٹیٹیوشنز کا خاص طور پر ٹیچرز اور دوسرے انسٹیٹیوشنز کو بھی ان کی سیلری کا ڈیٹا
جو ہے وہ خود بخود ریٹرن میں شو ہو جاتا ہے اگرچہ یہ کافی لیٹ شو ہو ا ستمبر کے شروع میں ہوا تھا لیکن یہ کہ چلو یہ اچھی بات ہے
پہلے جو ٹیکس کنسلٹنس ساری سیلریز کیلکولیٹر سے نکالتے تھے ان سے آسانی ہو گئی اب ڈیٹا خود ہی آ جاتا ہے اور جو بلکہ 149 کی
جو withholding ہو جاتی ہے وہ بھی خود ہی ا جاتی ہے تو اس سے بڑی اسانی ہو جاتی ہے ریڑن فائل کرنے میں اور اس کے
بعد سیلری میں کیا مشکل ہے اس میں جو پراپرٹی اپ نے سال میں سیل پرچیز کی اس کو ہم نے بتانا ہوتا ہے اور وہ سیل پرچیز وہاں
پہ لکھنا ہوتی ہے اس طرح سے ریٹرن فائل ہو جاتی ہے زیادہ سے زیادہ اپ کو بینک سٹیٹمنٹ چاہیے ہوتی ہے اور یہ اپ ایک دن
کا کام ہے
اگر آپ ریٹرن اگر اپ نے چار ماہ میں بھی فائل نہیں کرسکے ، بینک سٹیٹمنٹ نہیں لے سکے تو پھر ریٹرن فائل کرنا بہت ہی
مشکل ہے پھر اپ چاہے دو ماہ اور دے دیں پھر اپ ریٹرن فائل نہیں ہو سکتی ۔اب یہ نومبر آنے والاہے اسی طرح جب میں
اس میں بھی اتنا مشکل کام نہیں STAMENTSاور بجلی کے بل اور پراپرٹی سیل پرچیز کی ہے وہ بتانی ہوتی ہے ادھے گھنٹے کا
کام ہے ریٹرن فائلنگ کا اب اگر اتنے کنسلٹنٹس AVAILABLE ہیں اپ کو اتنا میسجز کرتے ہیں کہ اب ریٹرن فائل کرنا
ہے ۔پھر بھی آپ ریٹرن نہیں فائل کر سکتے تو پھر ایف بی ار کا یا گورنمنٹ کا بھی کوئی قصور نہیں
پھر تو ہونا یہ چاہیے کہ ایک ہزار روپے کی بجائے پانچ ہزار روپے جو ہےچالان ان کو رکھنا چاہیے اے ٹی ایل کا چالان جو ہے وہ
پانچ
ہزار روپے ہونا چاہیےجو کہ اب ایک ہزار روپے ہے ۔ تاکہ ان کو ذمہ داری کا احساس ہو
کہ یہ بھی قومی ذمہ داری ہے
ٹیکس کی ہمارے ملک کو بہت ضرورت ہے اس وقت گورنمنٹ نے اگر فوکس کیا ہوا ہے تو ہمیں بھی چاہیے گورنمنٹ کا ساتھ
دیں تو اب اس میں یہ ہے کہ اب ریٹرن فائلنگ بہت مشکل لگتی ہے اس لیے دو دن رہ گئے ہیں تو گورنمنٹ نے جو فائلنگ کر
رہے ہیں ان کے لیے نام رکھا ہے کہ وہ تین پرسنٹ وہ اور تین پرسنٹ رہیں گے اور جنہوں نے ریٹرن فائل نہیں کی وہ سکس
پرسنٹ پر پورا سال ہی رہے رہیں گے
تو اس لیے اس میں میرا نہیں خیال کہ اگر اپ کا NTNبن گیا ہے اب ریٹرن فائل کر رہے ہیں رہے ہیں تو زیادہ سے زیادہ اپ
کو ہارڈر یہ ہو سکتی ہے کہ کنسلٹنٹ آپ سے فیس لے گاتو لوگوں کو سمجھناچاہیے کہ جس طرح ڈاکٹر ہیں ہر طرح کے ڈاکٹرکے
آپشنز ہیں، اسپیشلسٹ ٹائپ سےلے کر ۔
ہم سرکاری ہاسپٹل بھی ہیں ا زیادہ فیس لینے والے بھی ہیں تھوڑی فیس لینے والے بھی اسی طرح یہ ٹیکس کے کنسلٹنٹ سے ہیں
وہ انہی کیٹگریز میں ہیں کہ ٹاپ لیول کے جو لائر ہیں تجربہ کار ہیں ان کی فیس زیادہ ہے اس کے بعد درمینی فیس والے ہیں اس
کے بعد تھوڑی فیس والے بھی ہیں اس کے بعد بالکل فری والے بھی ہیں اگر اپ ڈھونڈیں تو اپ کو کوئی والے بھی تو
کنسلٹنٹس کی کوئی کمی نہیں ہے اگر اپ ان کو کمی ریٹرن جمع کروائیں ہم دیکھیں اگر اخری دن ہم ان کو اپ ڈیٹا دیں اور کیمپ
فائل کریں نہ سسٹم چل رہا ہے اور اتنے بندوں کی فائلیں ہوں تو وہ کس طرح اپ کی اینٹریز کر سکتا ہے تو اس لیے کائنڈلی ہمیں
بھی چاہیے کہ ہم ٹائم سے ریٹرن فائل کریں اور میرا خیال ہے کہ تقریبا 80 پرسنٹ لوگوں نے ریٹرن ذمہ داری سے فائل کر
لیا ہوگی اور جو رہ گئے ہیں ان کو اور گورنمنٹ کی اس میں کافی اچھی کوشش بھی ہے اور دیکھتے ہیں اس سے ٹیکس کلچر میں
ہمارے امپروومنٹ ہوگی۔