Good News for Overseas | Court Order | Foreign Remittance | Clarity on PRC Certificate | FBR
پاکستان میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں (Overseas Pakistanis) کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ حالیہ عدالتی فیصلے اور ایف بی آر کی وضاحت نے غیر ملکی ترسیلات (Foreign Remittances) کے حوالے سے اہم شفافیت فراہم کی ہے، خصوصاً PRC (Proceed Realization Certificate) کے کردار کو واضح کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ ان تمام افراد کے لیے اہم پیش رفت ہے جو قانونی طریقے سے بیرونِ ملک سے رقوم پاکستان بھیجتے ہیں۔
⭐ عدالتی فیصلہ – ایک بڑی راحت!
عدالت نے فیصلہ سنایا کہ بیرونِ ملک سے بھیجی گئی رقوم کو انکم ٹیکس کی آمدنی تصور نہیں کیا جائے گا، بشرطیکہ وہ مستند بینکنگ چینل کے ذریعے آئی ہوں۔
یہ فیصلہ خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے فائدہ مند ہے جن کے خلاف ٹیکس آفس غیر ضروری انکوائریاں کر رہا تھا۔
⭐ Foreign Remittance کیا انکم ہے؟
قانون کے مطابق:
-
بیرونِ ملک سے بھیجی گئی رقوم قابلِ ٹیکس آمدنی نہیں ہیں۔
-
آپ کو اس پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا ہوتا۔
-
اس کے لیے صرف ایک دستاویز ضروری ہے: PRC (بینک سے رقوم وصولی کا سرٹیفکیٹ)۔
⭐ PRC Certificate کی وضاحت – کب اور کیسے ضروری؟
ایف بی آر کے مطابق:
اگر آپ یہ ثابت کر دیں کہ رقم قانونی طریقے سے بینک، ریمیٹنس ایپ یا ایکسچینج کمپنی کے ذریعے بھیجی گئی ہے تو اسے Income Tax سے مکمل طور پر مستثنیٰ سمجھا جائے گا۔
PRC کب ملتا ہے؟
-
جب کوئی رقم بیرونِ ملک سے آپ کے اکاؤنٹ میں آتی ہے
-
بینک آپ کے کہنے پر یہ سرٹیفکیٹ جاری کر دیتا ہے
-
اس میں بھیجی گئی رقم، تاریخ، کس نے بھیجی — تمام تفصیلات ہوتی ہیں
⭐ FBR کی طرف سے مکمل وضاحت
ایف بی آر نے واضح کیا کہ:
-
PRC ہو تو FBR ان رقوم کو آمدنی نہیں سمجھے گا
-
کسی بھی سالانہ انکم ٹیکس گوشواروں میں آپ اسے بطور Foreign Remittance شو کر سکتے ہیں
-
اس پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا
⭐ Overseas پاکستانیوں کے لیے فائدے
✔ غیر ضروری نوٹسز میں کمی
✔ آمدنی پر ریلیف
✔ قانونی تحفظ
✔ بینکنگ چینل استعمال کرنے والوں کے لیے مکمل تحفظ
✔ FBR کی انکوائری سے بچاؤ
✔
اگر آپ بیرونِ ملک سے قانونی طریقے سے رقوم بھیجتے ہیں اور آپ کے پاس PRC موجود ہے تو FBR آپ سے اس رقم کا ٹیکس نہیں مانگ سکتا۔
عدالتی فیصلہ اور ایف بی آر کی وضاحت دونوں آپ کے حق میں ہیں۔
