جائیداد کی خریداری، FMV اور اضافی ٹیکس — ایک اہم عدالت کا فیصلہ جو ہر خریدار کو معلوم ہونا چاہیے


📌 

جائیداد کی خریداری، FMV اور اضافی ٹیکس — ایک اہم عدالت کا فیصلہ جو ہر خریدار کو معلوم ہونا چاہیے


📌 

پاکستان میں جائیداد خریدتے وقت سب سے زیادہ پریشانی اس بات کی ہوتی ہے کہ ٹیکس کس ویلیو پر ادا کیا جائے — FBR ویلیو، DC ریٹ یا پھر FMV (Fair Market Value)۔
حال ہی میں ایک ایسا کیس سامنے آیا جس میں ٹیکس آفس نے FMV کی بنیاد پر اضافی ٹیکس چارج کیا، مگر عدالت نے فیصلہ ٹیکس دہندہ کے حق میں دے دیا۔ یہ فیصلہ ہر خریدار کے لیے ایک اہم رہنمائی بھی ہے۔

 

FAIR MARKET VALUE

 


📌 کیس کی اصل کہانی

ایک ٹیکس دہندہ نے 3 کروڑ 60 لاکھ روپے میں ایک جائیداد خریدی۔
FBR/DC ویلیو کے مطابق:

  • جائیداد کی قابلِ ٹیکس ویلیو: 17 لاکھ روپے

  • ٹیکس ادا کیا: 17 لاکھ کے حساب سے

  • سیل ڈیڈ بھی 17 لاکھ کی بنی

  • بینک چینل کے ذریعے بھی 17 لاکھ ادا کیے گئے

  • جبکہ 1 کروڑ 90 لاکھ روپے نقد میں ادا کیے گئے

ادھر FBR کا مؤقف تھا کہ اس علاقے کی FMV بہت زیادہ ہے اور اصل قیمت 3 کروڑ 60 لاکھ ہی ہے، اس لیے نقد ادا کیے گئے 1 کروڑ 90 لاکھ پر بھی ٹیکس بنتا ہے۔


📌 FBR نے کیا کارروائی کی؟

FBR کے آفیسر نے معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ:

  • اصل خریداری FMV کے مطابق ہونی چاہیے

  • بینک چینل کی ادائیگی کم ہے

  • اصل قیمت اور ظاہر کردہ قیمت میں بہت فرق ہے

لہٰذا اس نے اضافی ٹیکس چارج کرنے کی کوشش کی۔


📌 ٹیکس دہندہ کے پاس مضبوط ثبوت

ٹیکس دہندہ نے عدالت میں چار مضبوط چیزیں پیش کیں:

✔ 1. بینک چینل کی ادائیگی صرف 17 لاکھ

جتنے پیسے بینک کے ذریعے گئے، وہی ٹیکس ویلیو کے مطابق تھے۔

✔ 2. سیل ڈیڈ بھی 17 لاکھ کی

سرکاری طور پر رجسٹرڈ دستاویزات میں یہی ویلیو لکھی گئی تھی۔

✔ 3. سیکشن 236K کے تحت ٹیکس بھی 17 لاکھ ویلیو پر ادا ہوا

ٹیکس چالان میں وہی رقم درج تھی۔

✔ 4. انکم ٹیکس ریٹرن میں بھی یہی رقم ظاہر کی گئی

تمام ریکارڈ یکساں اور مطابقت میں تھا۔

یہ تمام ثبوت عدالت کے سامنے پیش کیے گئے۔


📌 عدالت کا فیصلہ — ٹیکس دہندہ کے حق میں

عدالت نے فیصلہ کرتے ہوئے واضح کہا کہ:

  • جب تمام ریکارڈ (بینک، چالان، سیل ڈیڈ، ریٹرن) ایک ہی ویلیو کی نشاندہی کر رہا ہے

  • اور FBR یہ ثابت نہیں کر سکا کہ اصل خریداری کی رقم FMV کے مطابق تھی

تو ٹیکس دہندہ پر اضافی ٹیکس چارج نہیں کیا جا سکتا۔

یہ فیصلہ ٹیکس دہندگان کے لیے ایک اہم مثال بن گیا۔


📌 اہم مشورہ — اگر آپ جائیداد خرید رہے ہیں

چاہے آپ کہیں بھی جائیداد خریدیں، یہ اصول ہمیشہ یاد رکھیں:

1. ادائیگی بینک کے ذریعے کریں — وہی رقم جو DC/FBR ویلیو ہو

کیونکہ عدالت میں صرف "بینک چینل" ہی قابلِ قبول ثبوت ہوتا ہے۔

2. سیل ڈیڈ بھی FBR/DC ویلیو کے مطابق بنوائیں

کتابوں میں جو ویلیو لکھی ہے، وہی آپ کا قانونی دفاع ہے۔

3. ٹیکس ریٹرن میں بھی وہی رقم ظاہر کریں

ریٹرن، سیل ڈیڈ، بینک ادائیگی — تینوں ایک ویلیو پر ہوں۔

FMV (مارکیٹ ویلیو) پر لین دین ظاہر نہ کریں

ورنہ FBR یہ کہہ سکتا ہے کہ آپ نے اصل خریداری چھپائی ہے اور نوٹس بھیج سکتا ہے۔


📌 نتیجہ

یہ کیس بتاتا ہے کہ اگر:

  • دستاویزات مکمل ہوں،

  • ادائیگی بینک سے ہو،

  • ویلیو یکساں ہو،

تو FBR اضافی ٹیکس چارج نہیں کر سکتا — چاہے FMV زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔

ہر جائیداد خریدار کو چاہیے کہ خریداری کے وقت قانونی ریکارڈ درست رکھے تاکہ آنے والے وقت میں کسی بھی قسم کے نوٹس سے بچا جا سکے۔